سنگ دل
معنی
١ - پتھر جیسے دل والا؛ (کنایۃً) بے رحم، ظالم، جفا کار، سخت دل۔ "سبھی مل کر کہتے کہ حافظ کفایت علی تو بڑا سنگدل آدمی ہے۔" ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٦٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب وصفی ہے۔ فارسی سے ماخوذ دو اسما 'سنگ اور 'دل' کے ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پتھر جیسے دل والا؛ (کنایۃً) بے رحم، ظالم، جفا کار، سخت دل۔ "سبھی مل کر کہتے کہ حافظ کفایت علی تو بڑا سنگدل آدمی ہے۔" ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٦٥ )